Ak village m ak buraha baba rehta th. us ke user 95 Sall ke thi .ap apney zingi m kea seekha

4 months ago
68

**عنوان: ایک گاؤں اور اکیانوے سال کا بابا**

وہ گاؤں کے کنارے ایک کچے گھر میں رہتا تھا۔ سفید داڑھی، جھکی کمر، مگر آنکھوں میں وہ چمک جو پہاڑوں سے اترتی دھوپ کی مانند تھی۔ بابا کی عمر اکیانوے برس تھی، مگر وہ ہر صبح سویرے اُٹھتا، کھجور کے پیڑ کے نیچے چارپائی بچھاتا، اور چہل قدمی کرتا۔ گاؤں والے اُسے "درختوں کا دوست" کہتے تھے، کیونکہ وہ ہر شام کوئی نہ کوئی پھول یا پتا گودام میں سجاتا۔

ایک دن میں نے پوچھا، "بابا! اِتنی طویل عمر کا راز کیا ہے؟"
وہ مسکرایا، جیسے ہوا میں گندم کے خوشے بکھر گئے ہوں۔ اُس نے اپنی جھولی سے ایک خشک پھول نکالا، "دیکھو، یہ گلاب کی پتیاں ہیں۔ کبھی یہ تروتازہ تھیں، مگر وقت نے اِنہیں بھی جھُرا دیا۔ زندگی کا سبق یہی ہے: **خُشک پھول بھی خوشبو بانٹتے ہیں، اگر اُنہیں سنبھال کر رکھو۔** ہر لمحہ، ہر تجربہ، چاہے خوشی ہو یا غم، اِس زندگی کا زیور ہے۔"

اُس کی باتیں سن کر میں نے سیکھا: زندگانی کی خوبصورتی اُس کے "کمال" میں نہیں، بلکہ اُس کے "سنبھالے جانے" میں ہے۔ بابا نے نہ تو دولت جمع کی تھی، نہ شہرت، مگر اُس کا گھر ہمیشہ ہنسیوں سے گونجتا تھا۔ شاید یہی اصل زندگی ہے—جہاں ٹوٹے ہوئے پھول بھی دِل میں اُتر جائیں۔

**سبق:** وقت کی رفتار کو روکا نہیں جا سکتا، مگر اِس کے ساتھ چلنا سیکھو۔ ہر عمر، ہر موسم اپنا حسن رکھتا ہے۔

Loading 1 comment...