حجۃ اللہ البالغہ | 090 | کلام کے معنی و مراد کیسے سمجھیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

Streamed on:
19

احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف

حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس

درس : 90

مبحثِ سابع:
احادیثِ نبویہ ؐسے شرائع و قوانین کے اَخذ و اِستنباط کا دائرہ کار

باب:05

کلامِ متکلم سے معنی و مطلب کے اخذ و استنباط کے دس طریقے

مُدرِّس:

حضرت مولانا شاہ مفتی
عبد الخالق آزاد رائے پوری

بتاریخ: 11 ؍ مارچ 2020 ء

بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *

👇
0:00 آغاز درس
0:18 مبحثِ سابع سابقہ ابواب کا حاصلِ کلام
2:45 کلامِ متکلم سے معنی و مطلب کے اخذ و استنباط کے دس طریقے
8:52 پہلی تقسیم: ۱۔ ملفوظِ کلام ۲۔ مفہومِ کلام ۳۔ مضمونِ کلام اور ان میں سب سے اعلی درجے کا کلام
11:37 ملفوظِ کلام کی چار قسمیں اور مفہوم و مضمون کی تین تین قسمیں ہیں۔(کل دس اقسام)
12:29 پہلا علمی قاعدہ: متکلم کے مافی الضمیر کے اظہار اور سامع و مخاطب کے سننے اور سمجھنے میں وضوح و خفا (پوشیدگی و وضاحت کے) اعتبار سے ترتیب وار چند درجات ہیں۔
14:54 (۱) ملفوظِ کلام (عبارت النص) کی پہلی قسم: کلام کے لفظ کا موضوع لہ خاص اور قطعی طور پر مُعیَّن شخص ہو، اور محمول (جس پر کوئی حکم لگایا جار ہا ہے) وہ بھی متعین ہو اور متکلم کا مقصد ہو اور جملہ ایسا دو ٹوک ہو کہ اس میں کسی اور معنی کا کوئی احتمال نہ ہو۔
20:13 اس قسم سے مطلب و مفہوم قطعی الثبوت اور اعلی ترین درجے کا حاصل ہوتاہے۔
21:26 (۲) ملفوظ کی دوسری قسم:حکم کا موضوع عام ہو، جیسے الناس، المسلمون وغیرہ، اسمیں تخصیص کا احتمال ہے تو قطعیت باقی نہیں رہی۔
26:46 (۳) ملفوظ کی تیسری قسم: جس میں کلام کو اس مقصد کے لیے بیان نہ گیا ہو۔ اس قسم میں قطعیت پہلی دو قسم سے کم درجے کی ہے۔
28:52 (۴) ملفوظ کی چوتھی قسم: جملےمیں دوسرے معنی کا احتمال ہو، اس قسم میں سب سے کم درجے کی قطعیت ہوتی ہے، مثالوں سے وضاحت
39:40 مفہومِ کلام کی تعریف اور اس کی تین قسمیں: ۱۔فحوی کلام ۲۔ اِقتضائے کلام ۳۔ اِیمائے کلام
40:52 (۵) مفہوم کی پہلی قسم فحوی کلام (دلالة النص): کلام کے سیاق و سباق سے معنی سمجھا جائے۔
45:35 (۶) مفہوم کی دوسری قسم اِقتضاء النص: کلام کے لزومِ عادی، عقلی و شرعی کے تقاضے سے ایک معنی سمجھا جائے۔
49:08 (۷) مفہوم کی تیسری قسم اِیماء (إشارة النص) کا وسیع معنی و مفہوم اور حکم کے ثبوت کے لیے تین بنیادی شرائط
1:03:23 اِیماء النص کی مزید ایک اور شرط
1:07:10 مضمونِ کلام کی تین قسمیں: ۱۔ الدرج فی العموم ۲۔الاستدلال بالملازمة او المنافاة ۳۔ القیاس
(مضمونِ کلام کی تینوں قسموں کا مجموعی تعلق قیاس سے ہے۔)
1:07:42 (۸) مضمون کی پہلی قسم الدرج فی العموم (قیاسِ اقترانی)
1:16:02 (۹) مضمون کی دوسری قسم الاستدلال بالملازمة او المنافاة (قیاسِ استثنائی)
1:19:49 (۱۰) مضمون کی تیسری قسم القیاس (قیاسِ شرعی)

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Loading comments...